جموں: جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا پہلا مرحلہ آج (بدھ) کو اختتام پذیر ہوا، جس میں ریاست کے شہریوں نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ پہلے مرحلے میں پلوامہ کی 4، شوپیاں کی 2، کولگام کی 3، اننت ناگ کی 7، رامبن کی 2، کشتواڑ کی 3 اور ڈوڈہ ضلع کی 3 نشستوں پر ووٹنگ کے بعد امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہوگئی۔
ووٹنگ کے لیے پولنگ اسٹیشنز پر صبح سے ہی لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں، شام کو ووٹنگ ختم ہونے تک 59.19 فیصد سے زائد شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے تھے۔ وادی میں آخری بار اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ سال 2014 میں ہوئی تھی۔ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ بننے کے بعد جموں و کشمیر میں آج پہلی بار ووٹنگ ہوئی۔
قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جموں و کشمیر کی 90 اسمبلی سیٹوں کے لیے تین مرحلوں میں ووٹنگ کرانے کا اعلان کیا تھا۔ آج پہلے مرحلے کی ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد اب دوسرے مرحلے کے لیے ووٹنگ 25 ستمبر کو ہوگی اور آخری مرحلے کے لیے ووٹنگ یکم اکتوبر کو ہوگی۔ جموں کشمیر اور ہریانہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان 8 اکتوبر کو ایک ساتھ کیا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں وادی کے عوام نے کل 24 نشستوں پر 219 امیدواروں کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ پہلے مرحلے میں جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی مقبول امیدواروں میں سے ایک تھیں، جن کی قسمت آج ای وی ایم میں سیل کر دی گئی۔ چیف الیکٹورل آفیسر پی کے پول نے کہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ کشتواڑ میں 77 فیصد جبکہ پلوامہ میں سب سے کم 46 فیصد رہا۔ جموں و کشمیر میں پرامن ووٹنگ ہوئی، ایسی کوئی بھی شکایت نہیں ملی جہاں کہ دوبارہ پولنگ کرائی جائے ان باتوں کا اظہار پی کے پولے نے کیا۔
انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں تقریباً 59 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ پہلگام میں 58.89 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ ڈی ایچ پورہ میں 55.14 فیصد، کولگام میں 50.75 فیصد، دورو میں 50.50 فیصد اور کوکرناگ (محفوظ) میں 50 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ الیکشن کمیشن کے عہدیدار نے بتایا کہ ترال میں سب سے کم ٹرن آؤٹ 32.87 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
