گوہاٹی، 18 جون :
آسام سمیت پورے شمال مشرق میں مسلسل ہورہی بارش کے سبب سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس سال ایک ماہ کے بعد دوسری بار آئے سیلاب نے لوگوں کو بری طرح خوفزدہ کر دیا ہے۔ ریاست کے 28 اضلاع میں سیلاب کاقہر لوگوں پر برپا ہے ۔
سیلاب سے سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچنے سے کئی علاقوں کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا ہے۔ آسام کی راجدھانی گوہاٹی سمیت کئی شہروں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے 20 جون تک ہلکی سے موسلادھار بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔
مسلسل بارش کی وجہ سے مانس، پگلادیا، پوتھیماری، جیا بھرالی اور برہما پترا جیسی ندیاں کئی علاقوں میں خطرے کے نشان کے قریب بہہ رہی ہیں۔ آسام کے کئی اضلاع میں ندیوں کے کناروں پر بنائے گئے پشتے ٹوٹ گئے ہیں جس کی وجہ سے بڑی تباہی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ کربی آنگلانگ میں واقع ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ سے پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے کپیلی ندی ناگون ضلع کے کامپور اور ہوجائی اضلاع میں تباہی مچا رہی ہے۔ اس دوران ضلع ڈیما ہساو¿ پہلے سیلاب سے ابھی پوری طرح سے نکل بھی نہیں پایا تھاکہ ایک بار پھر صورتحال انتہائی خراب ہوگئی ہے۔
ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جمعہ کی دیر رات جاری کردہ معلومات کے مطابق ریاست کے 28 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں۔ ان میں بجالی، بکسا، برپیٹا، بشوناتھ، بنگائی گاوں، چرانگ، درنگ، دھیماجی، دھوبری، ڈبروگڑھ، ڈیما-ہساو¿، گوالپاڑہ، ہوجائی، کامروپ، کامروپ (میٹرو)، کاربی آنگلونگ ویسٹ، کوکراجھار، لکھیم پور، ماجولی، موریگاوں، نگاوں ، نلباڑی، شیوساگر، شونت پور، جنوبی سالمارا، تامول پور، تینسکیا اور ادالگوری اضلاع شامل ہیں۔ بجالی، برپیٹا، درنگ، گوالپاڑہ، کامروپ (میٹرو)، کوکراجھار، نلباری، ادالگوری ضلع کے قصبوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے سے دارالحکومت گوہاٹی میں تقریباً 60 فیصد لوگ پانی کے جمع ہونے سے نبرد آزما ہیں۔
ریاست کے 28 اضلاع کے 96 ریونیو ڈویژنوں کے 2930 گاوں متاثر ہوئے ہیں۔ ریاست کی کل 1894373 آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔ ان میں 351798 بچے اور 699144 خواتین شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سیلاب کی وجہ سے 43338.39 ہیکٹیئر فصل کا رقبہ بھی پانی میں ڈوب گیا ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کل 373 ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں۔ 232 ریلیف ڈسٹری بیوشن سنٹرس کے ساتھ کل 605 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ کل 108104 لوگ ریلیف کیمپوں میں ہیں۔ ان میں 48442 مرد، 39376 خواتین، 19635 بچے، 605 حاملہ/دودھ پلانے والی خواتین اور 46 معذور افراد شامل ہیں۔
سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے مجموعی طور پر 9 افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔ ان میں 6 مرد، ایک خاتون اور دو بچے شامل ہیں۔ ساتھ ہی ایک شخص سیلابی پانی میں لاپتہ بتایا جا رہا ہے۔ سیلاب سے انسانوں کے ساتھ ساتھ پالتو جانور بھی متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ جانوروں کی کل تعداد 1769009 بتائی گئی ہے۔ ان میں 813769 بڑے، 382758 چھوٹے اور 572482 پولٹری والے جانور شامل ہیں۔ سیلاب میں کل 410 جانور بہہ گئے۔ ان میں 10 چھوٹی اور 400 پولٹری شامل ہیں۔
سیلاب کے دوران 23 کچے مکانات اور 2 پکے مکانات سمیت کل 25 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مجموعی طور پر 258 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جن میں 22 جزوی طور پر کچے، جزوی طور پر 36 پکے مکانات شامل ہیں۔ ساتھ ہی 132 مویشیوں کے شیڈ بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ راحت اور بچاو¿ کے کاموں کے لیے مختلف ایجنسیوں کی جانب سے کل 156 کشتیاں تعینات کی گئی ہیں۔ سیلاب میں پھنسے کل 641 افراد کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 1818 جانوروں کو بھی کشتیوں کے ذریعے بچایا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں مجموعی طور پر 99 میڈیکل ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، فائر ڈپارٹمنٹ، آسام پولیس، ضلع انتظامیہ کے ساتھ دیگر ایجنسیاں بھی راحت کے کاموں میں لگاتار کام کر رہی ہیں۔
جمعرات کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں میں مختلف قسم کی غذائی اشیا تقسیم کی گئیں جن میں چاول 4576.08 کوئنٹل، دالیں 1452.75 کوئنٹل، نمک 389.84 کوئنٹل، سرسوں کا تیل 15589.66 لیٹر، مویشیوں کا چارہ- گندم کی چوکر 9.89.8 کوئنٹل ہے۔ موسلا دھار بارش کی وجہ سے انتظامیہ کی جانب سے ضلع کامروپ (میٹرو)، ڈیما ہساو¿ اور دیگر کئی اضلاع میں تعلیمی اداروں کو اگلے احکامات تک بند رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
