ویب مانیٹرینگ
پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں منگل کو سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملے میں 23 فوجی جان سے چلے گئے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں منگل کو مختلف کارروائیوں میں کل 27 ’دہشت گرد‘ مارے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ 11 اور 12 دسمبر کی درمیانی شب ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں دیکھیں گئیں، جن میں سے ایک حملہ 12 دسمبر کی صبح چھ ’دہشت گردوں‘ نے درابن میں سکیورٹی فورسز کی چوکی پر کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسندوں کے چوکی میں داخل ہونے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا، جس کے بعد حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خود کش حملہ کیا، جس سے عمارت زمین بوس ہو گئی اور 23 فوجیوں کی جان گئی جب کہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔
فوج کے بیان میں کہا گیا کہ اس حملے میں شامل تمام چھ ’دہشت گردوں‘ کو مار دیا گیا۔ اس حملے کے بعد علاقے میں شدت پسندوں کی ممکنہ موجودگی کے پیش نظر ’سینی ٹائزیشن‘ یعنی عسکریت پسندوں کا صفایا کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
فوج کی طرف سے کہا گیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان ہی کے علاقے درازندہ میں ’دہشت گردوں‘ کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کیا گیا، جس میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کو تباہ کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی میں 17 شدت پسند مارے گئے۔ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایک اور کارروائی کلاچی کے علاقے میں کی گئی جس میں آئی ایس پی آر کے مطابق شدت پسندوں کے ٹھکانے کو موثر انداز میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چار شدت پسند مارے گئے۔








