جموں/ چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے آج یوٹی سطح کمیٹی میٹنگوں کی صدارت کی جس میں جموںوکشمیر یوٹی میں زراعت اور باغبانی شعبوں کی ترقی کے لئے کچھ اہم مرکزی معاونت والی سکیموں کے سالانہ ایکشن پلان ( اے اے پی ) کو منظوری دینے کے لئے طلب کی گئی تھی۔
میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری اے پی ڈی اور پرنسپل سیکرٹری فائنانس کے علاوہ ایم ڈی ایچ اے ڈی پی ، سیکرٹری آر ڈی ڈی ، ڈی جی کوڈز ، محکمہ زراعت کے ڈی جی ریسورسز اور سربراہان جو جموںوکشمیر کے لئے اِن سکیموں کے مشن ڈائریکٹر بھی ہیں، نے شرکت کی۔
چیف سیکرٹری نے ہر سکیم میں شامل اجزأ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ان سکیموں کا مقصد فصلوں کی مجموعی پیداوار اور معیار کو بڑھانا ہے جس سے کسانوں کے لئے منافع میں خاطر خواہ اِضافہ ہوتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ کی جانب سے بروقت اَقدامات سے مقررہ مدت میں مقاصد کے حصول میں مدد مل سکتی ہے ۔
اُنہوں نے اعلیٰ سطح پر اِن سکیموں کی باقاعدگی سے نگرانی اور جائزہ لینے پر زور دیا تاکہ اگر کوئی رُکاوٹ ہے تو اسے فوری طور پر دُور کیا جاسکے ۔ اُنہوں نے جموں وکشمیر یوٹی میں اِن سکیموں کو آسانی سے عملانے کے لئے اِنٹر ڈیپارٹمنٹ کوآرڈی نیشن کا بھی مشورہ دیا۔
اَتل ڈولونے طریقہ کار کو آسان بنا کر ممکنہ فائدہ اُٹھانے والوں کو سکیم کے فوائد آسانی سے دستیاب کرنے پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے یہاں کے کسانوں کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے جہاں بھی ضرورت ہو رہنما خطوط کے مطابق ضروری ترامیم کرنے پر بھی زور دیا۔
پرنسپل سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوارشیلندر کمار نے میٹنگ کومقررہ وقت پر اہداف کے حصول کے لئے محکمہ کی طرف سے وضع کردہ مانیٹرنگ میکانزم کے بارے میں جانکاری دی۔ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ نے درخواست دہندگان کے تاثرات کی بنیاد پر ان کے لئے کچھ پیچیدگیوں کو دُور کیا ہے۔
اُنہوں نے یہاں اِن سکیموں کی عمل آوری کی مجموعی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور اِس کے علاوہ ان اَقدامات کو بھی اُجاگر کیا جو محکمہ جموںوکشمیر یوٹی میں عملانے والی ایسی ہر سکیم کے نتائج کو بڑھانے کے لئے غور کر رہا ہے ۔
متعلقہ مشن ڈائریکٹروں نے آئندہ مالی برس کے دوران ہر سکیم میں کی گئی کارکردگی پیش کی۔اُنہوں نے مالی برس 2024-25 ء کے لئے سالانہ ایکشن پلان ( اے اے پی) کی بھی نقاب کشائی کی۔
میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مرکزی حکومت نے سی ایس ایس راشٹریہ کرشی وِکاس یوجنا (آر کے وی وائی) کے تحت آر کے وی وائی نارمل، ایگری کلچر مشینائزیشن، سوئیل ہیلتھ فرٹیلٹی، رین فیڈ ائیریا ڈیولپمنٹ (آر اے ڈی)، پرمپرگت کرشی وِکاس یوجنا (پی کے وی وائی) اور زرعی جنگلات جیسے مختلف پروجیکٹوں کے لئے 13.21 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کئے تھے۔
اِس سکیم کے نتائج میں کسانوں میں ایک کروڑ سبزیوں کی پنیری کی تقسیم، بورویل کی تنصیب، بوور سسٹم شامل ہیں۔ اِسی طرح پی ایم کے وی وائی کے تحت نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دینے کے لئے 230 کلسٹر قائم کئے گئے ہیں اور آر اے ڈی کے تحت 41 واٹر لفٹنگ ڈیوائسز ، 82 ورمی کمپوسٹ یونٹس ، 252 اپیکلچر چھتے کی تقسیم بھی کی گئی ہے۔
میٹنگ میں آر کے وی وائی 2024-25 ء کے تحت اے اے پی کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ میٹنگ میں یہ بتایا گیا کہ سالانہ ایکشن پلان کی اگلے مالی برس کے لئے 63.03 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔ اِس میں آر کے وی وائی نارمل کے لئے 6.51 کروڑ روپے، زرعی میشنائزیشن کے لئے 22.45 کروڑ روپے، سوئیل ہیلتھ کی زرخیزی کے لئے 2.38 کروڑ روپے، رین فیڈائیریا ڈیولپمنٹ (آر اے ڈی) کے لئے 2.10 کروڑ، پی کے وی وائی کے لئے 6.71 کروڑ روپے اور فی ڈراپ زیادہ فصل کے لئے 18.75 کروڑ روپے مزید شامل ہیں۔
سکیم کے نتائج میں سبزیوں کی پیداوار میں 15سے20 فیصد اضافہ اور 3.65 کروڑ سبزیوں کے بیجوں کی دستیابی، 82,846 کوئنٹل معیاری بیجوں کی تقسیم، یقینی آبپاشی، روزگار کی فراہمی، صنف دوست مشینری، قدرتی وسائل کا بہتر استعمال، بہتر مارکیٹنگ اور بہتر منافع کے علاوہ درجنوں دیگر فوائد شامل ہیں۔
میٹنگ میں زعفران مشن، بانس مشن، کرشننوتی یوجنا، اے ٹی ایم اے، اور باغبانی کی مربوط ترقی کے مشن(ایم آئی ڈی ایچ) کے تحت لگائے گئے تخمینوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ کہا گیا تھا کہ 2024-25 ء کے لئے ایم آئی ڈی ایچ کے تحت سالانہ ایکشن پلان( اے اے پی)کی تجویز کردہ رقم 60.00 کروڑ روپے ہے۔
میٹنگ میں جموںوکشمیر یوٹی میں دیگر مخصوص فصلوں کے علاوہ زعفران، شہد کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے شروع کئے گئے پروجیکٹوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
