• Home
  • About Us
  • Contact Us
  • ePaper
منگل, ستمبر ۲, ۲۰۲۵
Chattan Daily Newspaper
  • پہلا صفحہ
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • کھیل
  • اداریہ
  • کالم
    • رائے
    • ادب نامہ
    • تلخ وشیرین
    • جمعہ ایڈیشن
    • گوشہ خواتین
    • مضامین
  • شوبز
  • صحت و سائنس
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Chattan Daily Newspaper
  • پہلا صفحہ
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • کھیل
  • اداریہ
  • کالم
    • رائے
    • ادب نامہ
    • تلخ وشیرین
    • جمعہ ایڈیشن
    • گوشہ خواتین
    • مضامین
  • شوبز
  • صحت و سائنس
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Chattan Daily Newspaper
No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • کھیل
  • اداریہ
  • کالم
  • شوبز
  • صحت و سائنس
  • آج کا اخبار
Home کالم رائے

سال 2024:محبت کرکے دیکھونا۔۔۔

Online Editor by Online Editor
2024-01-01
in اہم ترین, رائے
A A
سال 2024:محبت کرکے دیکھونا۔۔۔
FacebookTwitterWhatsappEmail

غوث سیوانی، نئی دہلی

سال گزشتہ دنیا نے بہت خون خرابہ دیکھا،نفرت کے واقعات دیکھے، ایسے میں سال آئندہ کو محبت کا سال کیوں نہ بنایا جائے؟نئے سال میں ہم آہنگی کا پیغام کیوں نہ عام کیا جائے؟آپس میں محبت کیوں نہ بانٹی جائے؟ اگر ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ اور پُرسکون بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ کرنا ہی ہوگا۔۔۔۔اگر ہم دنیا کے کسی خطے میں "غزہ” نہیں دیکھنا چاہتے تو ہمیں پیار بانٹنے کے لئے آگے آنا ہی ہوگا اور اپنے شہر، گائوں، ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کو محبت کی راہ پر آگے بڑھانا ہوگا۔ ہندوستان، صدیوں سے مختلف مذاہب، کلچر اور زبانوں کا گہوارہ رہا ہے اور یہی سبب ہے کہ ہم ہندوستانی دنیا کے کسی بھی ملک میں جاتے ہیں تو وہاں کی تہذیب کے ساتھ خود کو آسانی سےہم آہنگ کر لیتے ہیں۔ یہ ہماری طاقت ہے اور یہ ہمیں محبت کے راستے پر آگے لے جاسکتی ہے۔

ہندوستانی اور مسلمان دونوں حیثیت سے ہماری جڑیں ہندوستان کی مٹی میں پیوست ہیں۔ ہماری زندگی اور موت ہندوستان سے وابستہ ہے اور اس خطہ سرزمین کے بسنے والوں نے ایک مسلمان کے طور پرہمیشہ ہمارا احترام کیا ہے اور پیار دیا ہے مگر یہ بھی لازم ہے کہ ہم اس محبت اور احترام کے حقدار بنیں۔ سماج سیوا کے سبب سائیں بابا کو اس ملک میں پوجا جاتا ہے،اے پی جے عبدالکلام کی خدمات کو قابل احترام گردانا جاتا ہے، عظیم ہاشم پریم جی کے لئے ہندوستان اپنی پلکیں بچھاتا ہے جب کہ شہنائی نوازبسم اللہ خان، محمد رفیع، سلمان خان،شاہ رخ خان، عامر خان وغیرہ کو اس ملک کے لوگ دل وجان سے چاہتے ہیں۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں کس روپ میں خود کو پیش کرنا ہے۔ اگر اس سرزمین کے لوگ مسلمانوں سے نفرت کرتے تو اجمیر شریف کی درگاہ میں مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں کی بھیڑ نہ ہوتی۔ اگر اس ملک کے لوگ مسلمانوں سے اجتناب کرتے تو شہر شہر، گائوں گائوں، اور محلہ محلہ ایک دوسرے کے پڑوسی بن کرپیار سے نہ رہتے۔

یہ محبت اور یکجہتی آج کے سوشل میڈیا کے دور میں بھی جاری ہے۔اس کی زندہ مثال ہیں دہلی میں ہمارے بزرگ پڑوسی رام سنگھ، جو ایک خالی پلاٹ کی نگرانی کرتے ہیں ، اپنی بیوی کے ساتھ یہیں رہتے ہیں، اور سبزی بیچ کر گزارہ کرتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ رمضان المبارک میں پڑوسی مسلمان ہر شام ان کے گھر بھی افطاری بھیجتے ہیں اور عیدالاضحیٰ پر بکرے کا گوشت انہیں بھی دیتے ہیں۔ یہ دونوں میاں ، بیوی بکرے پالتے ہیں اور انہیں عموماً عید الاضحی پر کسی مسلمان کے ہاتھوں فروخت کرتے ہیں۔چند ماہ قبل ان کا ایک بکرا اچانک مر گیا تو تعزیت کرنے والوں میں ہم بھی شامل تھے۔

رام سنگھ کی بیوی کہہ رہی تھیں کہ ایسا لگتا ہے کسی نے جادو کردیا ہے۔۔۔ پھر انہوں نے کہا یہاں تو تمام مسلمان ہیں۔۔۔ نمازیں پڑھتے ہیں۔۔۔اچھے لوگ ہیں۔۔ جادو کون کرے گا۔۔ابھی حال ہی میں رام سنگھ کی ایک بکری رات کے اندھیرے میں چور اٹھا لے گئے ۔۔ انہوں نے پولس میں شکایت کی تو ایک سپاہی نے کہا کہ’ کسی ملا نے کھالیا ہوگا‘ ۔ یہ سن کر رام سنگھ نے جواب دیا کہ نہیں بھائی۔۔ ایسا نہیں ہے۔ میں ایک ہندو ہوں اور میرے بیشتر پڑوسی مسلمان ہیں مگر وہ ہمیشہ میری مدد کرتے ہیں۔۔۔ اچھے لوگ ہیں، بکری کی چوری نہیں کرسکتے۔۔۔ گزشتہ دنوں رام سنگھ کی آنکھ کا آپریشن ہوا تو ان کی مدد کے لئے مسلمان پڑوسی آگے ٓآئے۔۔ انہیں بھی مسلمانوں سے خاص تعلق خاطر ہے اور میرے ٹیرس گارڈن کا جائزہ لینے اکثر میری چھت پر آجاتے ہیں۔

میں راجدھانی دہلی میں رہتا ہوں مگر میرا تعلق بہار کے ایک گائوں سے ہے جہاں میں نے قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کی عملی تربیت تب پائی تھی جب میری عمر سات سال سے بھی کم تھی۔ اس کا اثر آج بھی محسوس کرتا ہوں۔ یہاں عید و دیوالی، محرم اور ہولی کی تقریبات سب لوگ مل کر مناتے تھے۔ ہماری عید کی سویوں کی مٹھاس ہمارے ہندو پڑوسیوں کو جس قدر خوش کرتی تھی، دیوالی اور چھٹھ کے ٹھکوے (ایک میٹھا پکوان) ہمیں بھی فرحت بخشتے تھے۔ تب کوئی ہمیں یہ بھی نصیحت نہیں کرتا تھا کہ ہندوتہوار کے پکوان کھانا جائز نہیں ہے۔۔۔ ہمارے گائووں میں ایک بوڑھا برگد کا پیڑ تھا جو مسجد کے سامنے تھا اور یہاں گائووں کے بزرگوں کی ہر روز بیٹھک ہوا کرتی تھی۔ چونکہ راستے کے کنارے تھا لہذا راہی بٹوہی بھی گرمیوں کی تپش سے بچنے کے لئے یہاں ٹھہر کر آرام کرلیتے تھے۔ سبھی مذاہب اور برادریوں کے لوگوں کو میں نے یہاں بیٹھے ہوئے دیکھا اور ان کے بیچ کبھی دھرم اور ذات کا جھگڑا نہیں دیکھا۔

گوتم بدھ کو ایک برگد کے نیچے گیان حاصل ہوا تھا مگر ہم جیسے ہزاروں افراد نے اس برگد کے نیچے محبت ، اخوت اور بھائی چارہ کا گیان حاصل کیا تھا۔ برگد کا وہ درخت آج موجود نہیں اور اس کے سایے میں بیٹھنے والوں میں سے اب کم ہی لوگ زندہ بچے ہیں مگروہاں حاصل ہونے والا محبت کا سبق آج بھی زندہ ہے اور اسے کبھی نہیں مرنا چاہئے۔ تب ہمیں اس سبق کا اہمیت کا اندازہ نہیں تھا مگر آج جب ہم مردم کشی کی خبریں میڈیا اور سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس درس محبت کی کیا اہمیت ہے۔

آپسی پیار ہی تھا کہ اس گاؤں سے کوئی بھی دیش کے بٹوارے کے بعد پاکستان نہیں گیا۔ ہم نےگائوں کے بزرگوں سنا ہے کہ گاؤں کے کچھ لوگوں نے پاکستان جانے کا ارادہ کیا تو گائووں کے کچھ سرکردہ ہندو، ان کے پاس آئےاور پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کو ہم سے کوئی شکایت ہے؟ مسلمانوں نے جواب دیا نہیں ! پھرانھوں نے کہا ہم سے کوئی تکلیف ہے تو مسلمانوں کا جواب تھا بالکل نہیں۔ پھر ہندو بھائیوں نے کہا جب آپ کو ہم سے کوئی پریشانی نہیں اور نہ ہی ہم سے کوئی شکایت ہے تو صدیوں کے پریم اور بھائی چارے کو چھوڑ کر پاکستان جانے کے بارے میں کیوں سوچ لیا ؟ اس جذباتی سوال کا کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا اور پھر کوئی پاکستان جانے کی ہمت نہ کر پایا۔

میں مانتا ہوں کہ ہندوستان، سرزمین محبت ہے۔ یہی سبب ہے کہ ابوالبشرآدم کو اسی سرزمین پر اتارا گیا تھا۔ انسان کو جو جذبہ دوسری مخلوقات سے الگ کرتا ہے، وہ یہی جذبہ محبت ہے۔ محبت کرنے والی مخلوق کو اگر اللہ نے ہندوستان کی سرزمین پراتارا تو وہ جذبہ بھی پہلے پہل اسی دھرتی پر آیا۔ اس لئے اگر کبھی اختلافات بھی پیدا ہوجائیں تو ہمیں دور کرکے محبت کی راہ ہموار کرنی چاہئے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھیں اور دوسروں کے مذہب، تمدن اور رسم ورواج کا احترام کریں۔ میرے بچے اسکول جانے کی عمر کو پہنچےتو ان کا داخلہ ایک ایسے اسکول میں ہوگیا جہاں تعلیم پانے والے تقریباً تمام بچے مسلمان تھے۔ تب مجھے بار بار یہ فکر لاحق رہتی کہ ان کی سوچ پر یک رنگی غالب نہ آجائے۔ اسی تشویش کے پیش نظر ان کا داخلہ ایک ایسے اسکول میں کرایا جہاں مختلف مذاہب اور تہذیب کے بچے زیر تعلیم تھے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ بچوں نے جہاں گھر میں اسلامی تہذیب کو پڑھا اور سیکھا وہیں اسکول میں اس مخلوط تہذیب سے بھی روبرو ہوئے جو ہندوستان کا خاصہ ہے۔

ہم ایک مسلم اکثریتی علاقے میں رہتے ہیں مگر ہم اپنے آفس، کام کی جگہوں اور کارخانوں وغیرہ میں سبھی طبقے کے لوگوں سے ملتے ہیں، ایسے میں اگر وہ پہلے سے مخلوط ماحول کے عادی رہیں تو ان کے لئے بھی اچھا ہے۔ میں نے کسی ایسے ملک کا سفر نہیں کیا ہے جہاں صرف ایک مذہب ، زبان یا تہذیب کے لوگ رہتے ہوں مگر مجھے کسی ایسے ملک کا تصور ہی پریشان کردیتا ہے جہاں صرف ایک مذہب کے ماننے والے ہوں یا ایک ہی کلچر کے لوگ نظر آئیں۔

مذہب اسلام نے ہمیں انسانیت کا درس دیا ہے اور سب کے ساتھ محبت و احترام کا برتائو کرنے کا حکم دیا ہے خواہ اس کا مذہب کچھ بھی ہو۔ خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب کے دور خلافت میں ایک دفعہ گورنر مصر عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے نے ایک غیرمسلم کو ناحق پریشان کیا ، اس کی شکایت خلیفہ وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ تک پہنچی تو آپ نے تمام لوگوں کے سامنے گورنر کے بیٹے کوسزا دی اور فرمایا "تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھ لیا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا۔”

ہمارے آج کے بہت سے مسائل کا علاج پیارومحبت میں مضمر ہے اور نئے سال کے موقع پر ہمیں عزم کرنا چاہئے کہ اپنے ملک کو محبت کے پھولوں سے سجائیں گے۔

علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو جانے کس کس سے

محبت کیوں نہیں کرتے محبت کرکے دیکھونا

 

Online Editor
Online Editor
ShareTweetSendSend
Previous Post

کشمیر 2023۔خوشیوں کی سوغات بھی اور غم کے پہاڑ بھی

Next Post

بنگلہ دیش کے نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات محمد یونس کو 6 ماہ قید کی سزا

Online Editor

Online Editor

Related Posts

میرواعظ نے سیاحوں کے لیے گھروں اور مساجد کو کھولنے پر کشمیریوں کی ستائش کی

میرواعظ نے سیاحوں کے لیے گھروں اور مساجد کو کھولنے پر کشمیریوں کی ستائش کی

2024-12-29
سری نگر نے موسم کی پہلی برف باری کا خیر مقدم کیا

سری نگر نے موسم کی پہلی برف باری کا خیر مقدم کیا

2024-12-27
سال 2024: جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں منفرد حیثیت کا حامل سال

سال 2024: جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں منفرد حیثیت کا حامل سال

2024-12-27
اٹل جی کی کشمیریت

اٹل جی کی کشمیریت

2024-12-27
سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کا انتقال

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کا انتقال

2024-12-27
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے لوگوں کی شکایات سنیں

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے لوگوں کی شکایات سنیں

2024-12-27
وادی میں منشیات کے عادی افراد حشیش ، براون شوگر کا بھی استعمال کرتے ہیں

منشیات کے خلاف جنگ ۔‌ انتظامیہ کی قابل ستائش کاروائیاں

2024-12-25
اگر طلبا وزیر اعلیٰ کی یقین دہانی سے مطمئن ہیں تو میں بھی مطمئن ہوں :آغا روح اللہ مہدی

عمر عبداللہ کے اپنے ہی ممبر پارلیمنٹ کا احتجاج:این سی میں تناؤ کا آغاز

2024-12-25
Next Post
بنگلہ دیش کے نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات محمد یونس کو 6 ماہ قید کی سزا

بنگلہ دیش کے نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات محمد یونس کو 6 ماہ قید کی سزا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Home
  • About Us
  • Contact Us
  • ePaper

© Designed Gabfire.in - Daily Chattan

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • کھیل
  • اداریہ
  • کالم
    • رائے
    • ادب نامہ
    • تلخ وشیرین
    • جمعہ ایڈیشن
    • گوشہ خواتین
    • مضامین
  • شوبز
  • صحت و سائنس
  • آج کا اخبار

© Designed Gabfire.in - Daily Chattan