از:جی ایم بٹ
کشمیر میں 2023 کا سال بڑا ہی اونچ نیچ کا سال رہا ۔ گوکہ پچھلے کئی سالوں کے مقابلے میں یہ سال متوازن سال رہا ۔ موسم مناسب رہا اور لوگوں نے اپنا کام کاج اطمینان سے کیا ۔ قدرتی آفات سے نجات ملی اور عمومی بیماروں سے بھی حفظ و امان حاصل رہا ۔ اس سے پہلے کئی سال بڑی بے اطمینانی کے سال رہے ۔ اس وجہ سے لوگ بڑے خوف زدہ تھے ۔ لیکن ایسی کوئی اتھل پتھل دیکھنے کو نہ ملی جو لوگوں کو اضطراب میں مبتلا کردیتی ۔ کچھ ایسے واقعات ضرور پیش آئے جو خون کے آنسو رلانے کا باعث بنے ۔ تاہم مجموعی طور یہ سال بہتر سال ثابت ہوا ۔ زراعت ، فصلوں اور میووں کی پیداوار کے لحاظ سے یہ سال حوصلہ افزا رہا ۔ کئی طرح کے خدشات کے باوجود منڈیوں میں ان چیزوں کے اچھے دام ملے اور لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا ۔ کئی علاقوں میں کم بارشوں اور اولے گرنے کی وجہ سے فصلیں تباہ ہوئیں ۔ اس کے علاوہ میوہ باغات میں بیماریوں کی وجہ سے پیداوار پر اثر پڑا ۔ اس کے باوجود مارکیٹ میں میووں کی توقع سے زیادہ ڈیمانڈ رہی ۔ اگرچہ تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آن لائن خریداری اور بے روزگاری کی وجہ سے کاروبار ماند پڑا ہوا ہے ۔ تاہم دوسرے حلقے اطمینان کا اظہار کررہے ہیں ۔ بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے یہاں کے پڑھے لکھے نوجوان دوچار ہیں ۔ یہاں روزگار کا واحد ذریع سرکاری نوکریاں تھیں ۔ سرکار نے کئی ہزار لوگوں کو نوکریاں تو فراہم کیں ۔ لیکن ایسا تو ممکن نہیں کہ ہر کسی تعلیم یافتہ کو روزگار فراہم کرکے اس کے مسائل حل کئے جائیں ۔ نوکریاں فراہم نہ ہونے کی وجہ سے سماج پر کئی طرح کے منفی اثرات پڑرہے ہیں ۔ بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ ان کے والدین ذہنی تنائو کا شکار ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ ذہنی دبائو سے دوچار مریضوں کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہاہے ۔ بے روزگاری بڑھنے کے ساتھ ساتھ ذہنی مریضوں کی تعداد بھی بڑ رہی ہے ۔ اسی طرح منشیات کے پھیلائو میں اضافہ اور شادیوں کی شرح میں کمی کے لئے بے روزگار کو بڑا وجہ سمجھا جاتا ہے ۔ نوکری سے پہلے کوئی نوجوان شادی کرنے کو تیار نہیں ۔ اس وجہ سے ایسی ہزاروں لڑکیاں نظر آتی ہیں جو شادی کی عمر کی حد پار کرچکی ہے ۔ یہ ایسے مسائل ہیں جو سال 2023 کے دوران سامنے آئے ۔ خود کشیوں اور ٹریفک حادثات کے بڑے واقعات پیش آئے ۔ ان واقعات نے پورے کشمیر کو غم میں ڈبودیا ۔ اس دوران کئی اچھے واقعات بھی پیش آئے ۔
سال 2023 کے آغاز میں ہی اندازہ لگایا گیا تھا کہ سیاحتی شعبے کے لئے یہ سال بڑا حوصلہ افزا سال ثابت ہوگا ۔ یہ اندازے صحیح ثابت ہوئے اور بڑی تعداد میں سیاح وارد کشمیر ہوئے ۔ ان سیاحوں نے مخصوص سیاحتی مقامات کے علاوہ کئی دوسرے دوردراز علاقوں میں جاکر وہاں سیر و سیاحت کی ۔ بعد میں ان کے تاثرات سن کر اندازہ ہوا کہ ٹورسٹ انڈسٹری ایک نئی کروٹ لینے والی ہے ۔ دوتین دہائیوں کے وقفے کے بعد پہلی بار غیر ملک سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد کشمیر میں نظر آئی ۔ سیاحوں کو کشمیر راغب کرنے کے لئے مقامی انتظامیہ ، سیاحت سے جڑے لوگوں اور مرکزی سرکار نے مل جل کر کام کیا ۔ اس وجہ سے سیاحوں کو ایک بار پھر بڑی تعداد میں کشمیر لانے پر راغب کیا جاسکا ۔ ادھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کشمیر میں حالات بہتر ہونے اور امن و امان کی وجہ سے سیاح بڑی تعداد میں کشمیر آئے ۔ وزیر اعظم نے اس بارے میں تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ،لی ٹنسی کے واقعات میں کمی اور سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ۔ یہ واقعی بڑی اہم بات ہے کہ مار دھاڑ اور قتل وغارت کے واقعات اب خال خال ہی ہوتے ہیں ۔ یہ بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی ہے ک ٹارگٹ ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ سرینگر کے مضافات میں پولیس اہلکاروں کو دن دہاڑے گولیوں کا نشانہ بناکر ہلاک کیا گیا ۔ اس حوالے سے ایک اہم واقعہ ہندوارہ میں پیش آیا جہاں ایک ریٹائرڈ ایس ایس پی کو صبح کی نماز کے لئے مسجد میں اذان دینے کے دوران ہلاک کیا گیا ۔ پولیس نے اس ہلاکت میں ملوث مجرموں کی نشاندہی کرنے والے کو پانچ لاکھ روپے انعام میں دینے کا اعلان کیا ۔ تاحال قتل میں ملوث کسی فرد کی نشاندہی نہیں کی جاسکی ۔ عسکریت کے حوالے سے سال کا سب سے بڑا حادثہ کوکرناگ میں پیش آیا جہاں گڈول کے جنگلوں میں چھپے جنگجووں کی تلاش کے دوران انکائونٹر میں آرمی کے دو اور کشمیر پولیس کا ایک آفیسر مارا گیا ۔ پولیس کے جس آفیسر کی یہاں موت ہوئی اس کی شناخت ہمایوں بٹ کے طور ہوئی جو خود ایک ریٹائرڈ پولیس آفیسر کا بیٹا تھا ۔ اس ہلاکت پر پورے کشمیر میں غم و اندوہ کا اظہار کیا گیا ۔ سرکاری اہلکار تو الگ ان کی رہائش گاہ پر کئی روز تک ماتم پرسی کے لئے لوگوں کا تانتا بندھا رہا جن میں ہر طبقے کے لوگ شامل تھے ۔ کسی پولیس آفیسر کی موت پر تعزیت کا یہ اس طرح کا پہلا موقع بتایا جاتا ہے ۔ کوکرناگ انکائونٹر کے دوران جنگل میں چھپے دونوں عسکریت پسند بھی ہلاک کئے گئے ۔ گزرنے والے سال کے اختتام پر اسی طرح کے انکائونٹر کا واقع بفلیاز پونچھ کے جنگلی علاقے میں پیش آیا جہاں مسلح جنگجووں نے فوج کے پانچ نوجوانوں پر گولیاں چلاکر انہیں ہلاک کیا ۔ جنگجو مارے گئے جوانوں کا اسلحہ اپنے ساتھ لے کر فرار ہوگئے اور تاحال ان کا اتہ پتہ نہیں ۔ اس انکائونٹر کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ فوجیوں نے مبینہ طور تین مقامی نوجوانوں کو دوران حراست ہلاک کیا جس پر وہاں سخت احتجاج کیا گیا ۔ اس صورتحال کا جائزہ لینے وزیر دفاع خود یہاں پہنچ گئے اور یقین دلیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائے گی ۔
کشمیر کے حوالے سے سال 2023 کے دوران ایسے دو واقعات پیش آئے جو طویل عرصے تک لوگوں کو یاد رہیں گے ۔ ایک سرینگر میں G20 ممالک کے نمائندوں کا اجلاس ۔ دوسرا دفعہ 370 کی تنسیخ کو لے کر سپریم کورٹ کا فیصلہ ۔ جی ٹونٹی ممالک کا جو اجلاس سرینگر میں منعقد ہوا یہ اس نوعیت کا پہلا اجلاس تھا جس میں گروپ میں شامل بیشتر ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ اس اجلاس میں شال نمائندوں نے اپنی دوسری سرگرمیوں کے علاوہ سرینگر کے ایک بازار کا بھی دورہ کیا اور وہاں کئی نمائندوں نے خرید و فروخت بھی کی ۔ ان نمائندوں کے اس طرح سے سرینگر میں اطمینان سے ادھر ادھر پھرنا یہاں کے حالات میں ایک بڑی تبدیلی قرار دی جاتی ہے ۔ اس طرح سے حکومت نے ان افراد کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کشمیر میں عسکری تحریک پر مکمل قابو پایا گیا اور یہاں کسی طرح کی افرا تفری نہیں پائی جاتی ہے ۔ اس طرح سے دنیا بھر کو پیغام دیا گیا کہ کشمیر ایک پر امن علاقہ ہے جہاں کے عوام نے دہلی سرکار کی طرف سے اٹھائے گئے تمام اقدامات کو قبول کیا ہے ۔ سال کے آخر میں سپریم کورٹ نے ان مقدمات کی شنوائی مکمل کی جو 2019 میں مرکزی سرکار کے اس فیصلے کے خلاف دائر کئے گئے تھے جس میں کشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 370 کے تحت خصوصی درجہ حاصل تھا ۔ ان مقدمات پر چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم ججوں کے پینل نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے سرکار کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو حق بجانب قرار دیا گیا جسٹس چندرا چور کی طرف سے پڑھ کر سنائے گئے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ سرکار نے کوئی غیر قانونی قدم نہیں اٹھایا بلکہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنا آئین کے تحت لیا گیا جائز فیصلہ ہے ۔ اس فیصلے میں اگلے سال جموں کشمیر میں انتخابات منعقد کرکے اسمبلی کو بحال کرانے کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔








