محکمہ تعلیم کی طرف سے ایسے نجی اسکولوں کو تازہ ہدایات دی گئی ہیں جو اسٹیٹ لینڈ پر قائم ہیں ۔ اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ اسکول مالکان سے کہا گیا ہے کہ نئے تعلیمی سال کے لئے داخلوں کے دوران پچیس فیصد پسماندہ طبقوں سے آنے والے طلبہ کے لئے مفت تعلیم کا انتظام کریں ۔ حکومت نے کئی سال پہلے تمام نجی اسکولوں کے لئے غریب طلبہ کے لئے دس فیصد کوٹا مشخص کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ اسی طرح پرائیویٹ کوچنگ سنٹروں کے لئے بھی اس پالیسی پر عمل کرنے کے لئے کہا گیا ۔ بلکہ محکمہ تعلیم کی طرف سے یہ کوٹا از خود پورا کیا جاتا ہے اور پسماندہ طبقوں سے داخلہ کے خواہش مند طلبہ کو ان کوچنگ سنٹروں میں داخلہ دلایا جاتا ہے ۔ اس کا اب تک کافی فائدہ ملا ہے ۔ تاہم نجی اسکول حکومتی پالیسی پر عمل کرنے میں ہچکچاہٹ دکھاتے ہیں ۔ اگرچہ تمام نجی ا سکول رجسٹریشن کے وقت ایسے طلبہ کے داخلے کے حوالے سے اطمینان دلاتے ہیں ۔ لیکن عملی طور اس پالیسی پر بہت کم عمل کیا جاتا ہے ۔ اب اسٹیٹ لینڈ پر قائم اسکولوں کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور ایسے اسکولوں کی انتظامیہ کے لئے غریب طلبہ کے لئے نشستیں مخصوص کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے ایسے اسکولوں سے متعلق ریونیو محکمے کو بے دخلی کی ہدایات دی گئی تھیں ۔ بلکہ بڈگام ضلعے میں اس پر عمل کا آغاز بھی کیا گیا تھا ۔ بعد میں سرکار نے سختی سے کام لینے کے بجائے نرم پالیسی اختیار کرنے کا من بنایا ۔ اب معلوم ہوا ہے کہ ایسے اسکولوں کو عوام دوست بلکہ غریب پرور پالیسی اختیار کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔ اسٹیٹ لینڈ پر قائم اسکول مالکان کے لئے یہ اپنی پراپرٹی بچانے کا بہترین موقع ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس حکم نامے پر عمل کرتے ہیں کہ نہیں ۔
اسٹیٹ لینڈ پر قائم اسکولوں کے لئے پسماندہ طبقوں کے لئے داخلہ ممکن بنانے کی ہدایات ڈائریکٹر ایجوکیشن کی طرف سے دی گئی ہیں ۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا کہ کشمیر ناظم تعلیمات کا دفتر کسی طور ایسی سکت نہیں رکھتا کہ اپنے حکم نامے پر عمل ممکن بناسکے ۔ اس دفتر کا جو رعب بہت پہلے پایا جاتا تھا پچھلے دس سالوں سے اس کا اثر بہت حد تک زائل ہوچکا ہے ۔ اس دوران دفتر کا سارا نظام آفیسروں کے بجائے کلرکوں کے ہاتھوں میں رہا ۔ کئی بار معلوم ہوا کہ آفیسر خاص کر ناظم تعلیمات خود کوئی فیصلہ لینے کے بجائے دفتری بابو کے کہنے پر لیتے ہیں ۔ بلکہ ایک زمانے میں اس دفتر پر ٹریڈ یونینوں اور نامی گرامی کلرکوں کا راج تھا ۔ سارا نظام ان ہی کی ہدایات پر چلایا جاتا تھا ۔ اس دوران شاہ فیصل صاحب ڈائریکٹر ایجوکیشن بنائے گئے تو کسی حد تک دفتر کا وقاربحال ہوا تھا ۔ لیکن ان کے یہاں سے ٹرانسفر ہونے کے ساتھ ہی پرانا نظام بحال ہوگیا اور استحصالی عناصر نے دوبارہ دفتر کو اپنی تحویل میں لے لیا ۔ جب سے لے کر آج تک ایسا ہی کاروبار ہورہاہے ۔ جی پی فنڈ اور ایسے ہی چند کیسوں کے سوا تعلیم کو فروغ دینے کا کوئی بھی اقدام یہاں سے نہیں کیا جاتا ہے ۔ دفترمیونسپلٹی اور جنگلات محکمے کے دفاتر کی طرح فائلوں کے گردش تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ۔ اس وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہاں سے جاری ہونے والے کسی بھی حکم نامے پر عمل ہونا قیاس سے باہر ہے ۔ سرکاری اسکولوں کی حالت یہ ہے کہ وہاں ڈی ایس ای کے سے زیادہ پنجوں سرپنجوں کی تعظیم کی جاتی ہے ۔ سارے سرکیولر سکریٹریٹ سے اجرا ہوتے ہیں ۔ ناظم تعلیمات کا اصل پالیسی سے کوئی بھی تعلق نہیں رہا ۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ محکمے کے سربراہ کوئی بھی ٹھوس پالیسی اور سو فیصد خواندگی کو ممکن بنانے میں پوری طرح سے ناکام رہے ۔ پانی کی طرح فنڈس بہائے گئے ۔ کئی سال گزرنے کے بعد پتہ چلا کہ سب کچھ بے سود ہے ۔ زمینی سطح پر آگے بڑھنے کے بجائے غریب عوام بری طرح سے پیسے گئے ہیں ۔ سرکاری اسکولوں میں مجموعی طور غریب اور پسماندہ طبقوں کے بچے داخلہ لیتے ہیں ۔ داخلہ لیتے وقت اس بات کا چرچا کیا جاتا ہے کہ سرکاری اسکول غریب لوگوں کی امید بنے ہوئے ہیں ۔ نتائج سامنے آتے ہی معلوم ہوتا ہے کہ ان بے بس طلبہ کا بڑے پیمانے پر استحصال کیا گیا ہے ۔ تعلیم چھوڑ کر جانے والے بیشتر طلبہ سرکاری اسکولوں کی پیداوار ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اور سرکار دونوں سرکاری محکمہ تعلیم سے پوری طرح سے مایوس ہوچکے ہیں ۔ اس سے یہی نتیجہ نکالا گیا کہ ناظم تعلیمات کا دفتر عوام اور حکومت کو دھوکہ دیتے رہا ہے ۔ یہ نتیجہ اخذ کرنے کے بعد اس دفتر کا رعب اور افادیت ختم ہونا یقینی ہے ۔ موجودہ مرحلے پر یہاں سے جاری ہونے والے ہدایات کو زیادہ سیریس نہیں لیا جاتا ہے ۔ اس حوالے سے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اسٹیٹ لینڈ پر قائم اسکولوں میں غریب طلبہ کے لئے مفت تعلیم کا نعرہ عملی صورت اختیار نہیں کرے گا ۔ نجی اسکول پہلے ہی اس قدر خوگر ہیں ک ڈی ایس ای کے کو ایک کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔ اب اگر محکمہ نئی پالیسی کو اپنے پر کاربند بھی رہا تو فرضی ریکارڈ بنانے کے علاوہ کچھ زیادہ نہیں کیا جائے گا ۔ ڈائریکٹر ایجوکیشن اپنے حکم نامے کو عملی شکل دینے میں کامیاب رہا تو مبارک بادی کا مستحق ہوگا ۔



