
سلوان مومیکا، 31 سالہ، ایک عراقی شہری ہے جو گزشتہ دو سالوں سے سویڈن میں مقیم ہے، بدھ 28 جون کو اسٹاک ہوم کی سب سے بڑی مسجد کے باہر سلوان نے قرآن پاک کے ایک نسخے کے اوپر خنزیر کے گوشت کا ایک ٹکڑا رکھا نسخے کو اپنے پیروں تلے رونداپھر ان کے اوراق پھاڑکر انہیں نذرِ آتش کیا۔ یعنی کہ ہر طریقے سے مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کی۔
بظاہر اس نے قبل ازیں ایک ویڈیو آن لائن پوسٹ کی تھی، جس میں عید الاضحیٰ کے تہوار کے دن قرآن پاک کو جلانے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا تھا، اور ویڈیو میں اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں سے چندہ اور مدد کی درخواست بھی کی تھی۔ اپنے اس عمل کو مزید جواز دینے کے لیے اس نے کہا کہ اسے سٹاک ہوم پولیس سے قرآن پاک کا نسخہ جلانے کی اجازت ملی تھی اور جیسا کہ العربیہ ٹی وی نے اطلاع دی تھی، وہ 10 دن کے اندر قرآن پاک کا ایک اور نسخہ جلانے کا ارادہ رکھتا تھا۔
ظاہر ہے، اس عمل نے مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر مسلمانوں کے غصے کو جنم دیا۔ اپنی طرف سے امریکہ نے اس واقعے کی مذمت کی لیکن مزید کہا کہ مظاہرے کے لیے اجازت نامہ جاری کرنا آزادی اظہار کی حمایت کرتا ہے لیکن یہ اس اقدام کی توثیق نہیں ہے، اس طرح وہ سویڈش حکام کی خاموشی سے حمایت کرتا نظر آیا۔
دریں اثناء نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ-جو کہ عمومی طور پر اس طرح کے مذہبی واقعات پر رائے زنی نہیں کرتے ہیں- انھوںنے کہا کہ یہ واقعہ جارحانہ اور قابل اعتراض تھا لیکن غیر قانونی نہیں۔ تاہم، نیٹو کے سربراہ نے اس واقعے کے باوجود سویڈن کی نیٹو کی رکنیت پر ایک مرتبہ پھر زور دیا، جس نے اس واقعے میں ایک اور جہت کا اضافہ کردیا ہے۔
ترکی نے سویڈش حکام کے قرآن جلانے کے مظاہرے کی منظوری دینے کے فیصلے کی مذمت کی، یہ اقدام جولائی میں بلاک کے کلیدی سربراہی اجلاس سے قبل نیٹو میں شمولیت کے لیے سویڈن کی عرضی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے مظاہرے کو ’’گھناؤنا عمل‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ترکی اپنی جانب سے نیٹو میں سوئڈن کی شمولیت کا ہر طریقے سے روکنے کے لیے کام کرے گایعنی کہ اب سمجھ میں آیا کہ سٹولٹن برگ نے یہ بیان کیوں دیا۔
دریں اثنا، اس واقعے کے فوراً بعد سویڈش پولیس نے اپنے دفاع میں کہا کہ اگرچہ اس نے سلوان کو آزادانہ تقریر کے تحفظات کے تحت اجازت نامہ دیا تھا، لیکن اب اس نے "ایک نسلی گروہ کے خلاف احتجاج” کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ اس نے جلانے کا عمل مسجد کے اتنے قریب کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔لیکن واقعے کے چند دن بعد ہی عالمی دباؤ کی وجہ سے سویڈش پولیس اور حکومت دونوں کو اپنا بیان بدلنا پڑا اور انھوں نے واقعے کی مذمت کی۔
مظاہرے کے لیے پولیس کی اجازت دو ہفتے بعد سامنے آئی جب سویڈن کی ایک اپیل کورٹ نے سٹاک ہوم میں دو مظاہروں کے لیے اجازت نامے سے انکار کرنے کے پولیس کے فیصلے کو مسترد کر دیاتھا، جن میں قرآن جلانا بھی شامل تھا۔ پولیس نے اس وقت سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیا تھا، جنوری میں ترکی کے سفارت خانے کے باہر مسلمانوں کی مقدس کتاب کو نذر آتش کرنے کے بعد، جس کے نتیجے میں کئی ہفتوں تک مظاہرے ہوئے، سویڈن کے سامان کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا اور سویڈن کی نیٹو کی رکنیت کی عرضی کو انقرہ نے رکوادیا تھا۔ شاید اس بنا پر سویڈش حکومت کو اپنا بیان بدلنا پڑا ہے۔
بظاہر سویڈن شاذ و نادر ہی احتجاج اور رائے عامہ کی مذمت کرتا ہے۔ اور مبینہ طور پر وہاں کی ایک عدالت نے دو ہفتے قبل سلوان کو مظاہرے کی اجازت دی تھی۔
اپنی طرف سے، سلوان کا کہنا ہے کہ ان کا خیال آزادی اظہار کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا جیسا کہ رپورٹوں میں ان کا حوالہ دیا گیا ہے،’’یہ جمہوریت ہے۔ یہ خطرے میں ہے اگر وہ ہمیں بتائیں کہ ہم کیا کرسکتے ہیں یا کیا نہیں‘‘
تاہم، یہاں دو اہم سوال ابھرتے ہیں پہلا یہ کہ کیاسلوان مومیکا مسلمان بھی ہے یا نہیں؟ ہم وثوق سے تو نہیں لیکن اندازے سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ یزدی کرد ہے۔ اور شاید اسی لیے اس نے ایسی بیہودہ حرکت کی۔
دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس حرکت کو نفرت انگیز جرم یعنی کہ Hate Crime کا فعل قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ نفرت انگیز جرم اور نفرت انگیز تقاریر کی کسی بھی عالمی طور پر متفقہ اصطلاح کی عدم موجودگی میں، اس بات پر بحث کرنے کے لیے دونوں طرف کی آراء موجود ہیں کہ آیا یہحرکت نفرت انگیز جرم کے طور پر اہل ہے یا نہیں۔
اس طرح، پورا واقعہ ہمیں اس بنیادی سوال کی طرف لے جاتا ہے کہ آیا نفرت انگیز جرم یا نفرت انگیز تقاریر یعنی کہ Hate Crime یا Hate Speeches کیا ہوتی ہیں ؟ نفرت پر مبنی جرائم کی کسی بھی عالمی طور پر قبول شدہ اصطلاح کی عدم موجودگی میں، جس طریقے سے یورپ اور دیگر جگہوں پر مسلم قوم کے خلاف جرائم کو نفرت انگیز جرم کا نام نہیں دیا جاتا ہے،جس کے لیے نفرت کے جرم کی عالمی طور پر قبول شدہ اصطلاح دینے کی فوری ضرورت ہے۔
اگر ہم جائزہ لیں تو پائیں گے کہ قومِ یہود یا اسرائیلیوں کے خلاف کسی بھی تقریر یا کارروائی کو فوراً زینوفوبیا یعنی کہ Xenophobia کے زمرے میں شامل کردیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1966میں ہی قومِ یہود کے خلاف کسی بھی عمل کو نسلی امتیاز کے زمرے میں شامل کرادیا گیا تھااور اس اصطلاح کو اقوامِ متحدہ نے 1966میں پاس بھی کردیا تھا۔
بالکل اسی طرح جیسے کسی بھی شکل یا حرکت میں زینوفوبیا کی مذمت کی جاتی ہے، اسی طرح مغربی دنیا کو اسلامی برادری کے خلاف اقدامات یا الفاظ کے استعمال کے خلاف متحد ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر مغربی اور مشرقی دنیا کے درمیان خلیج مزید بڑھ سکتی ہے۔
اس ضمن میںاقوامِ متحدہ نے اپنی طرف سے ہر سال 15مارچ کو اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان 2022 میں کیا تھا، اور اسی طرح اپنی سطح پر 18جون کو نفرت انگیز تقاریریعنی Hate Speeches کے انسداد کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود اگر ہم نفرت انگیز تقاریر یا جرم کی کوئی عالمی اصطلاح منظور کرنے میں ناکام ہیں تو اس کے لیے عالمی برادری اور خود مسلم ممالک بھی ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ جب تک ایسا کوئی قانون ان تمام ملکوں میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی کارروائی کو ناجائز قرار نہیں دیتا تب تک اس طرح کی حرکات کے مرتکب ہونے والے افراد کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی جاسکتی۔
UN سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے، 18 جون 2022 کو کہا تھا کہ ’’لیکن ہم نفرت انگیز تقریر کے سامنے بے بس ہیں۔ ہم اس کے خطرات کے بارے میں بیداری پیدا کر سکتے ہیں اور اسے اس کی تمام شکلوں میں روکنے اور ختم کرنے کے لیے کام کر سکتے ہیں‘‘۔یعنی کہ پہلے مغربی اقوام اور دیگر اقوام کو بھی، ایک عالمی طور پر قبول شدہ اصطلاح کو نافذ کرنے کے لیے تیزی سے کام کرنا چاہیے۔ نفرت انگیز جرائم، جس میں تمام قسم کی نفرت انگیز تقاریر اور مسلم قوم کے خلاف دیگر نفرت انگیز کارروائیاں شامل ہوں، اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ آزادیِ اظہارِ رائے کی حدود کیا ہیں، بصورت دیگر سویڈن جیسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے، جس سے ایک وسیع عالمی آبادی کو ذہنی اذیت پہنچتی رہے گی۔
