مسلسل خشک سالی سے کشمیر میں تشویش ناک صورتحال پائی جاتی ہے ۔ اس دوران جموں بھی موسمیاتی تبدیلی کی لپیٹ میں ہے ۔ یہاں دن کو سرینگر اور دوسرے پہاڑی علاقوں سے بھی کم درجہ حرارت نوٹ کیا گیا ۔ سردی سے بچنے کے لئے کشمیر سے جموں منتقل ہوئے افراد وہاں سخت مشکلات سے دوچار ہیں ۔ جموں میں عارضی طور ٹھہرے ہوئے ان افراد کے پاس سردی سے بچائو کے کوئی خاص انتظامات نہیں ہیں ۔ اس وجہ سے انہیں سخت پریشانیوں کا سامنا ہے ۔ کئی لوگ واپس کشمیر اپنے گھروں کو آگئے ہیں جبکہ باقی ماندہ افراد بھی واپسی کے حوالے سے تیاریاں کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں شہر کے علاوہ اس کے مضافات میں موجود کشمیریوں کو شدید ٹھنڈ کا سامنا ہے ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ماہرین جموں میں پائے جانی والی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے مخمصے کا شکار ہیں ۔ وہ اس کے وجوہات کا پتہ لگانے میں ناکام ہیں ۔ جموں کے علاوہ دہلی اور ملک کے دوسرے گرم علاقوں میں بھی اسی طرح کی ٹھنڈ پائی جاتی ہے ۔ دہلی ، امرتسر اور دوسرے بڑے شہروں میں کہرے اور دھند کی وجہ سے گاڑیوں کی نقل وحرکت میں مشکلات آرہی ہیں ۔ کئی شہروں کے لئے ہوائی ٹریفک چند گھنٹوں کے لئے معطل کرنا پڑی ۔ بلکہ ٹرینوں کے چلنے کے اوقات بھی تبدیل کئے گئے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پورے ملک بلکہ پورے برصغیر میں اسی نوعیت کی صورتحال پائی جاتی ہے ۔ موسم میں تبدیلی اور درجہ حرارت میں نمایاں فرق سے صورتحال گھمبیر بتائی جاتی ہے ۔ لوگوں کو پانی حاصل کرنے کے علاوہ کام کاج کو جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ اس وجہ سے عام لوگ سخت دشواریوں کا سامنا کررہے ہیں ۔
کشمیر میں کئی مہینوں سے خشک سالی پائی جاتی ہے ۔ ندی نالوں میں پانی کی کمی کے علاوہ دریائے جہلم میں بھی پانی کی سطح کم ہوگئی ہے ۔ یہاں کشتیوں کا استعمال کرنے والے کشتی بانوں کا کہنا ہے کہ پچھلے دہائی کے دوران پہلی بار انہیں دریا میں اس طرح سے پانی کی سطح کم ہوتی نظر آرہی ہے ۔ دریا کے علاوہ ڈل جھیل میں بھی پانی کی سطح انتہائی کم ہوگئی ہے اور ہائوس بوٹ پانی میں تیرنے کے بجائے ایک ہی جگہ ساکن ہوکر ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ ہائوس بوٹ مالکان بھی اس وجہ سے پریشان نظر آتے ہیں ۔ مجموعی طور لوگ سخت تنائو اور پریشانیوں کا شکار ہیں ۔ اس طرح کی صورتحال کی وجہ سے کء اشیائے خوردنی خاص طور سے سبزیاں حاصل کرنے میں مشکلات آرہی ہیں ۔ بازار سے خریداری کرنے والوں کا اندازہ ہے کہ اسی طرح کی صورتحال قائم رہی تو آگے جاکر گھر میں سبزیاں اگانا یا بازار سے خریدنا ممکن نہیں ہوگا ۔ خدشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تو زندگی گزارنا مشکل ہوگا ۔ یہ بڑی پریشان کن صورتحال ہے ۔ فضائی آلودگی کے حوالے سے پہلے خبردار کیا گیا تھا کہ اس کے نتیجے میں آگے جاکر ایسی موسمی تبدیلیاں آسکتی ہیں جن کے بارے میں سوچا نہیں جاسکتا ہے ۔ لوگوں خاص کر عالمی سطح پر معاملات کی نگرانی کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی تھی کہ حالات پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ فضائی آلودگی کو حد سے آگے بڑھنے نہ دیا جائے ۔ لیکن کسی نے توجہ نہ دی ۔ توجہ دی بھی گئی تو اس حوالے سے دئے گئے مشوروں پر عمل کرنے سے انکار کیا گیا ۔ کشمیر میں اس طرح کی موسمیاتی تبدیلی اسی خطے تک محدود نہیں رہ سکتی ہے ۔ بلکہ اس طرح کے سنگیں حالات پورے برصغیر میں پیش آسکتے ہیں ۔ اس سے پہلے کووڈ 19 کے دوران جب لاک ڈاون کے نتیجے میں انسانی سرگرمیاں ٹھپ پڑگئی تھیں تو آلودگی بہت حد تک کم ہوگئی تھی ۔ خیال تھا کہ اس سے عالمی برادری سبق حاصل کرکے آگے کے لئے روڈ میپ کے طور اختیار کرے گی ۔ لیکن لاک ڈاون ختم ہوتی ہی خود غرض لوگ واپس اپنی پرانی ڈگر پر آگئے ۔ بلکہ جو کسر رہ گئی تھی وہ بھی نکال دی ۔ یہ سب کچھ انسان کے اپنے کرتوت ہیں ۔ انسان نے اپنے ہاتھوں جو کچھ بویا آج اسی کی فصل کاٹ رہاہے ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ امیر اور ترقی یافتہ ممالک بلکہ فیکٹریوں اور کارخانوں کے مالکوں کے ہاتھوں اٹھائے گئے اقدامات کے نتائج غریب عوام کو سہنے پڑتے ہیں ۔ غریب لوگوں کو ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنا پڑرہی ہے ۔ امیر طبقہ کسی نہ کسی طرح سے زندگی گزار ہی لے گا ۔ مشکلات غریب طبقے کو اٹھانا پڑتے ہیں ۔ کشمیر ہو یا جموں دونوں جگہوں پر سردی اور گرمی کا عذاب غریب لوگوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ کشمیر میں امیر لوگوں نے الیکٹرک حمام بناکر بجلی محکمے کو انگوٹھا دکھایا ۔ غریبوں کا کہا جاتا ہے کہ بجلی کی کھپت بڑھ گئی ہے ۔ اس لئے اضافی فیس ادا کرو ۔ جموں میں سردی سے بچائو کے اس طرح کے انتظامات کرنا مشکل ہے ۔ خاص طور سے غریب لوگوں کے لئے غیر متوقع سردی سے بچائو کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔ بہر صورت غریب لوگوں کو درد سہنا پڑتا ہے ۔ لوگ پہلے ہی کئی طرح کی مشکلات کا شکار ہیں ۔ اب سردی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ آگے جاکر کیا صورت بنے گی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔



